وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش || روف نظامانی

 وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش

    روف نظامانی

 


یہ بات درست ہے کہ تقسیم کے وقت سندھی مسلمانوں اور سندھی ہندوؤں کے درمیان مذہبی فساد نہیں ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ہنگاموں کی وجہ سے ہی ہندوؤں میں عدم تحفظ کی صورت حال پیدا ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہاں سے ہجرت کی تھی۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ سندھ میں ہندو اور مسلمان ہمیشہ امن اور پیار محبت سے رہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ کچھ تاریخ نویس اس خیال کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سندھ میں ہندو اور مسلمانوں کے در میان کشمکش ہمیشہ سے رہی ہے۔ تالپوروں کے دور میں سیٹھ تاؤں مل کے والد کے ساتھ کیا گیا سلوک تو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ کی آر ملکانی اپنی کتاب ”سندھ اسٹوری“ میں لکھتے ہیں کہ سندھ کے ہندو مسلمانوں کے مقدس دن جمعہ کے پیش نظر جمعرات کی شام سے ہفتہ کی صبح تک اس خوف سے اپنے گھروں میں محصور رہتے تھے کہ کہیں ان کی زبان سے لفظ ”رسو "نہ نکل جائے جسے رسول سمجھ کر انہیں زبردستی مسلمان نہ کیا جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے لفظ رسوہی ترک کر دیا تھا اور اس کے بجائے ”نوڑی“ (رسا) استعمال کرتے تھے۔ منزل گاہ کے مسئلے پر فساد جس میں ساٹھ سے زائد لوگ مارے گئےتھے، ان میں دو اہم سندھی ، سندھ کے دو مرتبہ رہنے والے وزیر اعظم اللہ بخش سومرو اور صوفی گا تک بھگت کنور رام بھی شامل تھے۔

ہندو ہمیشہ سندھ کی آبادی کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ چند سو سال پہلے تک سندھ میں ان کی اکثریت تھی جبکہ تقسیم کے وقت وہ سندھ کی کل آبادی کا تیس فیصد اور کراچی کی آبادی کا اکیاون فیصد تھے۔ یہ شہروں میں رہنے والے، کاروبار سے وابستہ اور تعلیم یافتہ تھے۔ سندھ کے زمینداروں کے کرتوتوں کی وجہ سے پچاس فیصد زرعی زمین ان کی ملکیت تھی۔ ان باتوں کی وجہ سے ہی مسلم سیاست دان ان سے مثبت سلوک کرنے کے بجائے ان سے کہتے تھے کہ وہ دن بھی دور نہیں جب ہندوؤں کی عورتیں مسلمانوں کے گھروں میں ماسیوں کی حیثیت میں کام کریں گی اور ہندوان کے نوکر ہوں گے۔

تاریخ کو نہ تو واپس کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے نئے حالات کی روشنی میں اپنی مرضی سے لکھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ یہ کیوں ہوا، تاکہ اسے دہرانے سے بچا جا سکے۔

 ساز اگر وال کی کتاب   Sindh: Stories from Lost Homeland  کچھ عرصہ قبل شائع ہوئی ہے۔ مصنفہ کے کہنے کے مطابق اس نے یہ کتاب اپنی سندھی والدہ ، جن کی عمر تقسیم کے وقت تیرہ سال تھی ، کی اپنے وطن متعلق یاد داشتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے لکھی ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ اس کتاب کے لکھنے کے لیے ایک وجہ تو ضرور ہے اور کتاب میں ماں اور اس کے خاندان کی ایک مرکزی حیثیت بھی ہے لیکن اس میں دوسرے اور بہت سارے کردار موجود ہیں اور ایک لحاظ سے یہ سندھی ہندوؤں کے تقسیم سے پہلے اور بعد کے سماجی حالات کا ایک جائزہ بھی ہے۔

ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح سندھ کے ہندوؤں میں ذات پات کا نظام موجود نہیں تھا۔ اس کی وجہ مصنفہ یہ بتاتی ہیں کہ راجا داہر کی حکومت کے خاتے کے بعد سندھ میں ہندوؤں کی حکومت کبھی بھی قائم نہ ہو سکی جس میں ذات پات کے نظام کو لاگو کیا جائے۔ اس کے بجائے سندھ میں برادریوں کا نظام رہا ہے۔ مثال کے طور پر عامل جو پڑھے لکھے لوگ تھے اور زیادہ تر بادشاہوں اور امیروں کے درباروں اور انگریزوں کے دور میں دفتروں وغیرہ میں کام کرتے تھے۔ بھائی بند، جن کا تعلیم سے زیادہ بیو پار کی طرف دھیان ہوتا تھا، نوجوانی میں ہی بچوں کو دوسرے ممالک میں بیوپاری کوٹھیوں پر بھیج دیتے تھے جو وہاں سے چالیس سال کی عمر میں ریٹائر ہو کر اپنے وطن لوٹتے تھے۔ شکار پور اور حیدر آباد ان کے دو مراکز تھے۔ شوہروں کے باہر ہونے کی وجہ سے شکار پور کی عورتیں دوسرے مردوں سے تعلقات استوار کرتی تھیں جن سے بچے بھی ہوتے تھے۔ لیکن حیدر آباد والوں کے لیے مشتر کہ خاندان ہونے کی وجہ سے یہ ممکن نہ تھا۔ حیدر آبادی باہر سے بہت ساری اشیاء لاتے تھے اور ان کی نمائش اور دکھاوے پر زیادہ توجہ ہوتی تھی جبکہ شکار پوری اپنے کلچر پر زیادہ زور دیتے تھے اور حیدر آبادیوں کو سطحی اور دکھاوا کرنے والا کہتے تھے۔ اس کے جواب میں حیدر آبادی انہیں پسماندہ اور غیر مہذب کہتے تھے۔ بھاٹیا اکثریت ٹھٹھہ میں رہتی تھی۔ ان کا بیوپار اپنی برادری تک محدود اور شادیاں بھی آپس میں ہی کرتے تھے۔

اس کے باوجود کہ سماجی لحاظ سے ہندوؤں کا مسلمانوں سمیت کسی بھی برادری سے تنازعہ نہیں تھا لیکن جب وہ ہجرت کر کے گجرات، کچھ اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں گئے، جہاں ذات پات کا ایک مضبوط نظام موجود تھا، تو وہاں کے لوگوں نے انہیں اس طرح قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چونکہ گوشت کھاتے ہیں اس لیے مسلمانوں کے نزدیک اور ناپاک ہیں۔ اس لیے وہاں قبولیت حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنے آپ کو وہاں کے ماحول مطابق ڈھالنا پڑا۔ کی آر ملکانی نہرو کے حوالے سے ایک دلچسپ مشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں سندھی ہندو پسند نہیں تھے۔ کیونکہ وہ کہتے تھے کہ اس میں ایک ہی وقت میں ہندو بنئے اور مسلمان زمیندار دونوں کی عادتیں اور خصلتیں موجود ہیں۔

بھارت ہجرت کرنے والے کچھ سندھی اپنے آپ پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم کہتے تھے کہ وطن پر جان بھی قربان ہے لیکن ہم تو اپنی جان پر وطن قربان کر کے آگئے ۔ تقسیم کا فیصلہ ہونے سے قبل ہی بہت سارے ہندوؤں کو یہ اندازہ تھا کہ کیا ہونے والا تھا۔

اس لیے بہت ساروں نے اپنے اثاثے اور ملکیتیں    بھارت اور دوسرے ممالک کو منتقل کرنا شروع کر دی تھیں۔ گاندھی نے شروع میں سندھی ہندوؤں کے حوالے سے یہ بات کی تھی کہ اگر حالات سازگار نہیں رہتے تو دوسرے ممالک میں ہجرت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف لوگوں کو لکھا تھا کہ انڈمان جزیروں اور برازیل میں سندھیوں کی رہائش کا جائزہ لیا جائے لیکن جب تقسیم کے وقت کانگریس کے سندھی صدر کر پلانی نے یہ رائے دی کہ اس سے پہلے کہ سندھی ہندو کچلے جائیں انہیں وہاں سے نکالا جائے تو مہاتما کی رائے بالکل ہی مختلف تھی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ انکا اپنا وطن ہے اور انہیں وہیں رہ کر حالات کا سامنا کرنے دیں۔ اگر اس عمل میں وہ ختم بھی ہو جاتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

دلچسپ صورت حال ہریجنوں یا نچلی ذات والے ہندوؤں کے لیے پیدا ہوئی جو کراچی شہر میں صفائی وغیرہ کا کام کرتے تھے۔ ان کے جانے کی وجہ سے شہر میں گندگی کے ڈھیر لگ گئے تھے۔ مسلم لیگی رہنماؤں کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ وہ مسلم گارڈ کے بیچ لگائیں تا کہ کسی خطرے سے محفوظ رہیں۔ جبکہ دوسری جانب گاندھی نے ٹاٹا اسٹیمر سے درخواست کی کہ جہاز بھیج کر ہریجنوں کو سندھ سے نکالا جائے تاکہ ان کی جان بچائی جاسکے۔

مصنفہ کہتی ہیں کہ تقسیم کے وقت سندھ سے تقریبا بارہ لاکھ ہندوؤں نے ہجرت کی تھی لیکن ۱۹۵۱ء میں جب بھارت میں مردم شماری ہوئی تو ان کی تعداد مشکل سے ساڑھے سات لاکھ تھی۔ حیرانی اس بات پر تھی کہ باقی لوگ کہاں گئے۔ اندازہ یہ لگایا گیا کہ ان میں سے بہت بھارت کے علاوہ دوسرے ممالک چلے گئے تھے جہاں پہلے ہی ان کی جڑیں موجود تھیں۔

سندھی ہندو اپنی فطرت میں عملیت پسند رہا ہے۔ اٹھارویں صدی میں جب اب بھارت ہجرت کرنے والوں میں سے بہت سوں کے باب دادا نے ملتان سے سندھ کی جانب نقل مکانی کی تھی تو انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا اور اب بھی جب انہوں نے سندھ سے نقل مکانی کی ہے تو پیچھے کی جانب دیکھنا مناسب نہیں جانا ہے۔ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ یہودیوں سے مختلف ہیں جو صدیوں تک اپنی روایات سے وابستہ رہے اور ساتھ ساتھ فلسطین یعنی اپنے وطن سے بھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔

بھارت ایک کثیر القومی اور کثیر السانی ملک ہے۔ سندھی زبان کو قومی زبانوں کے شیڈول میں تو شامل کرایا گیا ہے لیکن سندھیوں کی اکثریت اپنے بچوں کو سندھی پڑھانا کارآمد نہیں بجھتی۔ جبکہ دوسرا مسئلہ رسم الخط کا ہے۔ قومی زبانوں میں شامل ہوتے وقت نہرو نے یہ تجویز دی تھی کہ اسے دیوناگری رسم الخط میں لکھا جائے تا کہ وہ ہندی اور ہندوستان کی دوسری زبانوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔ لیکن سندھی لیکھکوں کی مخالفت اور مزاحمت کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رسم الخط ہی مروج رہنے دیئے جائیں۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ نہ صرف مختلف کتاب دیوناگری رسم الخط میں شائع ہونے لگے ہیں بلکہ اسکولوں میں بھی دیوناگری رسم الخط میں پڑھائی ہوتی ہے۔ اس لیے اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ زبان اور ادبی حوالے سے سندھ اور ہند میں اس وقت جو روابط ہیں وہ وقت کے ساتھ کمزور ہوتے جائیں گے۔

سندھیوں کا کہنا ہے کہ وہ سندھ میں ایک مذہبی اقلیت تھے جبکہ بھارت میں وہ ایک لسانی اقلیت ہیں۔ یہاں ان کے لیے اہم مسئلہ اپنی شناخت اور امیج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی مالی حیثیت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے لوگوں کو اسپتالوں، اسکولوں اور خیراتی اداروں وغیرہ کی صورت میں بہت کچھ دیا ہے، لیکن وہ انہیں کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس حد تک کہ عدالت میں یہ درخواست جمع کرائی گئی کہ بھارت کے ترانے سے سندھ لفظ کو خارج کیا جائے۔ اسکے باوجود کہ ان میں بہت سے پڑھے لکھے اور عالم فاضل لوگ موجود ہیں لیکن بھارت کے لوگوں میں ان کا بالی ووڈ کی فلموں میں پیش کیا گیا ایک بڑے پیٹ والے لالچی سیٹھ کا امیج ہی ہے۔ ان میں سے اکثر اس خیال کے ہیں کہ اسکا اہم سبب یہ ہے کہ جس طرح پنجاب اور بنگال کو تقسیم کر کے پنجابیوں اور بنگالیوں کو اپنا وطن دیا گیا اس طرح سندھیوں کے ساتھ نہیں کیا گیا اور پوری سندھ کو پاکستان کی ریاست کے حوالے کر دیا گیا۔ تقسیم سے قبل بہت سے ہندوؤں نے کانگریس کے رہنماؤں کو یہ تجویز دی تھی کہ چونکہ تھر پارکر میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور یہ ہندو اکثریتی علاقوں کچھ اور بھیج کے قریب بھی ہے اس لیے بنگال اور پنجاب کی طرز پر اسے بھارت میں شامل کرنے کے لیے تجویز رکھی جائے اور اس پر اسرار کیا جائے لیکن اس وقت کے کانگریس کے رہنماؤں کا یہ جواب تھا کہ تمہیں صحرا میں کیا ملے گا۔ جبکہ بھارت میں جنت تمہارے انتظار میں ہے۔

اس طرح بھارت میں رہنے والے سندھی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اپنی زبان اور ثقافت ترک کرنے کے بعد بھی وہ سندھی ہی ہے اور اسے اس طرح دیکھا جاتا ہے۔ وہ بیک وقت مقامی کلچر کا حصہ بھی بننا چاہتا ہے اور اس کی مزاحمت بھی کرتا ہے اور اپنی الگ شناخت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہ ایک طویل اور تکلیف دہ عمل ہے لیکن آخر میں اس کے لیے مقامی کلچر کا حصہ بننے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ 

 

مشمولہ:

سہ ماہی تاریخ ، شمارہ نمبر 49، مارچ 2014ء

 

Comments

Popular posts from this blog

افسانہ : برکھا رُت || افسانہ نگار : عزیز ملک (راولپنڈی)