افسانہ : برکھا رُت || افسانہ نگار : عزیز ملک (راولپنڈی)

 افسانہ : برکھا رُت

افسانہ نگار : عزیز ملک (پیداش: 06 ستمبر 1916ء راولپنڈی- وفات: 04 جون 1999ء راولپنڈی)



صاحبزادہ صاحب اکیس بائیس برس کے ہو گئے تو بڑے حضرت کو خیال آیا کہ اب ان کی شادی ہو جائے تو اچھا ہے۔ رشتہ ابھی کہیں طے نہ کر پائے تھے کہ عرس کے ایام آگئے اور مریدوں کے قافلے آنا شروع ہوئے ۔ ماسٹر بہرام خان بھی اپنے اہل و عیال سمیت برکات سمیٹنے آیا تھا کہ اس کی جھولی مراد کے پھولوں سے بھر گئی۔ اس کی بڑی بیٹی جمیلہ پندرہ سولہ برس کی رہی ہوگی مگر اونچی لمبی گوری موٹی بھاری نکل آئی تھی ۔ ایسی لٹک مٹک کرتی ہوئی چال کہ خیال آپ سے آپ اٹک کر اور کلی دل کی چٹک کر رہ جائے ۔ امیدیں چٹکی لیں اور خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔

ادھر بڑے حضرت نے اشارہ کیا ادھر بات پکی ہوگئی۔ شب برأت سے دو دن پہلے بارات گئی اور ولیمہ پرہفت روزہ جشن بپا ہوا۔ ڈھولک ، گیت سنگیت، سمی،لڈی، کبڈی ، قوالی اور نعت خوانی ہوئی ۔ آس پاس کے دیہات سے مخلوقِ خدا اُمڈ آئی اور عام لنگر کھل گیا۔ فضا میں خوشیاں بکھر گئیں۔ جشن کی تقریبات بھی جاری رہیں اور چپکے چپکے باتیں بھی ہوتی رہیں ۔ ایک نے کہا۔ اپنے اپنے مقدر کی بات ہے۔ کہاں سکول کا معمولی مدرس کہاں حضرت کی ذاتِ گرامی ۔ نالی کی اینٹ محل میں جا لگی ۔ سوئے بھاگ جاگ اُٹھے ۔ دوسرے نے کہا ، سالے چپکا ہو جا کہاں بھاگ جاگے ہیں ۔ کیا ضمانت ہے کہ آگے چل کر صاحبزادے خود پیر بنیں گے تو چار پانچ شادیاں اور نہیں فرمائیں گے۔

شادی کی ہما ہمی کا زمانہ گزر گیا۔ پیر خانے کی زندگی معمول پر آگئی۔ ایک روز عصر کے وقت صاحبزادے معمول کے مطابق گھڑ سواری کے لیے نکلے اور برساتی نالے تک سرپٹ لے گئے ۔ وہاں پہنچ کر ہوا خوری کے لیے چہل قدمی کرنے لگے ۔ گھوڑا گھاس چرتا رہا۔ واپسی پر تقریبا ً اندھیرا ہو چلا تھا۔ لنگر کے قریب پہنچ کر محسوس ہوا کہ گھوڑے کے اگلے سیدھے پاؤں کی چاپ مصنوعی سی ہوگئی ہے۔ سائیس کو بلا کر کہا کہ ذرا دیکھنا نعل کو کیا ہوا ہے۔ سائیس نے گھوڑے کا پاؤں اٹھا کر دیکھا تو حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، آواز گلے میں اٹک گئی۔ صاحب زادے نے پوچھا،  " کیا خرابی ہے نعل میں؟" خرابی ۔ مجھے تو یہ یہ نعل سونے کی دکھائی دیتی ہے۔ صاحب زادے ذرا آپ دیکھیں۔ سائیں نے رک کر کہا۔ چل بے نابینے حافظ ہٹ پرے ۔سونے کی دکھائی دیتی ہے۔ ساون کے اندھے کو ہرا ہی سوجھتا ہے صاحب زادے خود دیکھنے کے لیے جھکے تو دیر تک رکوع بے سجود کے عالم میں غرق کھڑے سوچتے رہے۔ آخر یہ ہوا کیا۔ نعل واقعی خالص سونے کی نظر آرہی تھی۔

نعل اکھڑوا کر بڑے حضرت کی خدمت میں لائے اور سارا واقعہ کہہ سنایا۔ حضرت مسکرائے اور فرمایا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوئی ۔ ہمارے اس علاقے میں ایسی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جو لو ہے یا تانبے کو چھوادیں تو سونا بن جائے۔

 

اس رات کیمیا سازی اور اشیا کی صورت نوعیہ کے لوٹ پھیر سے متعلق دیر تک حضرت سے گفتگور ہی اور رات ہی رات میں زمین تیار ہوگئی۔ بیج پڑ گیا ، درخت اُگا اور برگ و بار آگئے۔ اگلی صبح نیند سے بیدار ہوئے تو اس انداز میں جیسے کیمیا سازان ِچرخ اٹھتے ہیں اپنے کام سے۔

اب معمول یہ ہو گیا صاحب سانجھ سویرے اپنے دو چار ہوا خواہوں کو لے کر نالے پر چلے جاتے ۔ جھاڑیوں کے پھول پتوں سے لے کر جڑی بوٹیوں کی کونپلوں تک لو ہے اور تانبے پر رگڑ رگڑ کر دیکھتے پر کھتے مگر مقصود ہاتھ نہ آتا۔ خُدامِ ادب نے ان کی خوش نودی کی خاطر ببول کے پھول ہی نہیں کانٹوں تک کو دھات کے ٹکڑوں پر مل مل کر اپنے ہاتھ گھسا لیے بلکہ ایک خادم کے ہاتھوں میں خارش ہو گئی۔ کچھ دیر کے بعد ورم آنے لگا۔ ویسے تو معمولی بات تھی۔ تجربات میں اکثر ایسا ہو جاتا ہے۔ تاہم لطیفے کی بات یہ ہوئی کہ دو پہر کے قوت واپسی پر اسے استنجا کے دوران ہاتھوں کے مس سے خارشی ورم غلط راستوں پر چل نکلا ۔ شام ہوتے ہوتے رنگ شفق کچھ زیادہ ہی نکھر آیا اور قافیہ وردیف دونوں وزن شعر میں سوا سیر ہو گئے ۔

گھوڑے کی نعل کے زر خالص میں تبدیل ہو جانے کا اتفاقی عمل صاحب زادےکے فکرِ رسا پر غیر فانی نقوش چھوڑ گیا۔

بڑے حضرت کے انتقال پر صاحب زادہ صاحب گدی نشین ہوئے تو روحانی مصروفیات بڑھ گئیں۔ پھر بھی تجربات کا سلسلہ حسب سابق جاری رہا کیوں کہ اس فن سے انہیں طبعی مناسبت ہوگئی تھی۔ انہی دنوں لگے ہاتھوں نکاح ثانی بھی فرمایا کیوں کہ جمیلہ سے شادی پر پانچ چھ برس گزر چکے تھے اور کوئی اولاد ہوئی نہیں تھی۔ اس کا بدن بے فکری کے ماحول میں بے تحاشہ فربہ ہو گیا تھا۔ اطباء کے خیال میں فربہی افزائش نسل کے راستے میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ اس لیے تازہ شادی ضروری ہوگئی لیکن خدا کی شان کہ چھ سات برس اور گزر گئے مگر حرم ثانی سے بھی گدی کا وارث برآمد نہ ہوا ۔

اتفاق سے اس مرتبہ عرس ہی کے دنوں میں گوہر مراد ہاتھ آیا۔ یہ ساون کا مہینہ تھا۔ جیٹھ اساڑھ کی جھلسا دینے والی گرمی کے بعد کالی گھٹائیں جھومتی لہراتی آئیں اور جل تھل ہو گیا۔ گاؤں کی دور تک پھیلی ہوئی نشیب وفراز والی زمینوں پر رینگتے ندی نالے ساون کی برکھا کے گدلے پانی سے بھر گئے۔

عرس سے دو تین روز پہلے ہی آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ لوگ گدھوں اور بیل گاڑیوں اور اپنی پشت پر لنگر خانے کے لیے گندم کی بوریاں ڈھوڈھو کر لا رہے تھے۔ بہار کے میوے اور پھل ، گھی کے ڈولے اور نقد نذر الگ تھی۔ اللہ والے بزرگوں نے خلوص نیت کی کھیتی میں نیکی کے بیج بوئے تھے اور اب ان کے خوش قسمت وارث ان کی فتوحات کی فصل اٹھارہے تھے۔ لنگر خانے کے زنانے میں عورتوں اور بچوں کا ہجوم تھا اور اس سال معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا۔ باہر مردانے میں بھی رونقیں تھیں ۔ بارش نے موسم میں خنکی پیدا کر کے عرس کا لطف دو چند کر دیا تھا۔

عرس کی پہلی مجلس دو پہر سے کچھ پہلے ختم ہوئی اور پیر صاحب اندرونِ خانہ پہنچ کر مسہری پر دراز ہوئے ہی تھے کہ تیز بارش کا ریلا آیا اور کشادہ صحن میں بکھری ہوئی عورتوں نے بھاگ کر برآمدوں میں پناہ لی۔ پیر صاحب کے کمرہ کے متصل بھی چند عورتیں آبیٹھیں جن میں ایک آدھ بڑھیا ہوگی، دو چار ادھیڑ عمر کی اور چار پانچ البر لڑکیاں تھیں۔ انہی میں میں اکیس برس کی نو بیاہتا لڑ کی خیراں بھی تھی۔ بوٹا سا قد ، مدھ بھری سرمگیں آنکھیں، چہرے کے تیکھے نقوش میں نقاش ازل کے حسن خیال کا منہ بولتا پر تو کانوں میں بندے ، کلائیوں میں چوڑیاں اور ہاتھ پاؤں پر ہلکی سی حنا بندی نمایاں تھی۔ بارش تیز تر ہوتی گئی اور لڑکیاں بوچھاڑ سے بچنے کے لیے دروازے کی طرف سرکتی گئیں ۔ پیر صاحب نے کھسر پھسر سنی تو گردن اٹھا کر دیکھا اور ان سے کہا او بے عقل لڑکیو! اندر آ جاؤ ۔ وہ ایک ایک کر کے شرماتی لجاتی جھجکتی ٹھٹکتی ہوئی اندر جا کر دری کے فرش پر جم گئیں اور انہوں نے سر ڈھانپ لیے۔

پیر صاحب نے دیدے گھما گھما کر ایک ایک کو دیکھا اور نگاہوں کے ترازو میں تولا اور پھر خیراں کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں اور ذرا سی دیر میں بنام احسن الخالقین ان کی نگاہ مجسم سوال بن کر رہ گئی۔ حسن آپ پردہ پھاڑ کر حریم شوق میں داخل ہوتا اور عشق کو گدگداتا ہے۔ انھوں نے جذب شوق میں مسہری سے پاؤں لٹکا دیے۔ لڑکیوں نے پنڈلیاں اور پاؤں دابنے کے لیے ہاتھ بڑھا دیے کہ دعا فقیر اں رحم اللہ ۔ جس نے کچھ پایا ادب اور خدمت کی راہ سے پایا ہے۔

خیراں سیدھے رخ کو آلتی پالتی مار کر بیٹھی پیر صاحب کے پاؤں داب رہی تھی۔ ہاتھوں کی جنبش سے اس کی چوڑیاں چھنن چھن بجتیں۔   باہر فرش پر بارش کا جھالا نغمہ بار تھا۔ آج ہر آواز ایک ساز بن گئی تھی۔

خیراں کے مہندی رنگے ہاتھوں پر حضرت کی نگاہ پڑی تو خیال کی ایک روچل پڑی ۔ سوچا کہ سرخی حنا کے سبز پتوں کی رگوں میں موجود ہوتی ہے مگر جب تک محبوب کے ہاتھوں کو چھو نہیں لیتی نمودار نہیں ہوتی ۔ اسی طرح خیراں بھی شاید جنم جنم سے ان کے ساتھ تھی مگر آنکھ سے اوجھل روح کی گہرائیوں میں پوشیدہ جیسے چندن میں خوشبو کی مہک یا غنچہ دہن کے سانس کی لہروں میں مشک بو ہوتی ہے یا جیسے بیج کے جگر میں پھول بھی ہوتے ہیں ببول بھی۔

حضرت کا ذہن رسا آنِ واحد میں میلوں کی مسافت طے کر گیا اور ظالم گلچیں نے چاہا کہ دوسرے کے حصے کا پھول بھی اپنے گلدستہ میں سجا لے ۔ اسی سوچ میں انھوں نے ارادتاً اپنی ایڑی اٹھا کر خیراں کی ران پر ایسے رکھ دی جیسے بادۂ ناب سے لبریز جام پر کوئی سر پوش ٹکا دے۔ خیراں نے کسی نا گوار رد عمل کا اظہار نہیں کیا تو پیر صاحب نےاس سے نام پوچھا:

"جی خیراں"  اس نے بتایا۔

حضرت نے معنی خیز قہقہہ لگاتے ہوئے فرمایا ، جتھے تیرا پیر ہوسی اوتھے خیرای خیر ہوسی۔

خیراں ایک پشتنی مرید فضلو کی نو بیا ہتا تھی جسے وہ شادی کے چند ماہ بعد پہلی مرتبہ سلام کے لیے اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔ وہ عرس پر دو تین اوّل آنے اور سب سے آخر جانے والے مریدوں میں سے تھا۔ جان مار کر لنگر خانے کے کاموں میں جتا رہتا او ر مشقت کرتے کرتے اس کے کپڑے پیسنے سے تر ہو جاتے ۔ اس مرتبہ وہ پہلے سے بھی زیادہ انہماک کے ساتھ خدمت گزاری میں لگا ہوا تھا اور خیراں کو بھی اس نے ہدایت کر دی تھی کہ حضرت کے زنانے میں دل و جان سے خدمت کو اپنا فرض سمجھے ۔ اور وہ واقعی دل و جان سے خدمت گزاری میں مصروف تھی اور حضرت اس کے شوہر کی پیشانی کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری چکانے میں لگے ہوئے تھے۔

عرس کے بعد تیسرے روز سہ پہر کے وقت فضلو نے اجازت چاہی اور حضرت نے فرمایا خیر سے جاؤ۔ فضلو نے کسی سے کہا خیراں کو اندر سے بلواؤ تا کہ ہم جائیں لیکن اسے بتایا گیا کہ خیراں تو اپنی کسی سہیلی کے ساتھ پرسوں ہی کی چلی گئی تھی۔

فضلو کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اس نے بہ مشکل حواس پر قابو پا کرحضرت کے پاؤں پکڑ کر التجا کی کہ خیراں اپنے گھر میں میرے ساتھ پُر مسرت زندگی گزار رہی ہے۔ اس کی کوئی سہیلی بھی نہیں اور میری اجازت کے بغیر کہاں جا سکتی ہے۔ چلی کہاں گئی ۔ خدا کے لیے مجھ پر رحم کیجیے اور اس کو باہر بلوائیے تاکہ میں اس سے پوچھ کر اطمینان کرلوں کہ کیا بجوگ پڑا ہے۔

"بلاؤں کہاں سے وہ اندر ہوتی تو آچکی ہوتی ۔" حضرت نے تیور بگاڑ کر کہا۔

با ہر گھٹا تُکی کھڑی تھی ۔ بادل گرجا، بجلی کڑ کی اور بوندا باندی شروع ہوگئی ۔ ادھر فضلو کے دل میں بھی طوفان بپا تھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں ۔ ہاتھ جوڑ کر حضرت سے عرض کیا کہ ریوڑھ کے رکھوالے کو بھیڑوں کی چوری کا الزام دینا مجھے زیب نہیں دیتا۔ خدا جانے آپ نے خیراں کو کون سی طلسماتی بُوٹی سونگھا کر اس کے سینے پر کیا اسم لکھ دیا ہے کہ وہ آپ کی فردوس کی حُو ربننے پر رضامند ہو گئی ہے۔ اور .. اور !

پیش تر اس کے کہ وہ کچھ اور کہتا حضرت نے اس کی بوتھاڑی پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا کہ اس کا دماغ بھنا گیا اور وہ چکرا کر پیچھے جا گرا۔ خدام نے اس کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور دھکے دے کر باہر نکال دیا۔

وہ کھلے کھیتوں تک بمشکل لڑکھڑاتا پہنچا تھا کہ تیز بارش نے آلیا۔ اس میں تو چلنے کی سکت بھی نہ تھی۔ ایک کھیت کے کنارے سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو برس رہے تھے ۔ بارش کے قطرے سر سے بہہ کر آنسوؤں میں ملتے اور پھر س کے دامن میں جذب ہوتے رہے ۔ وہ بے محابہ روتا رہا اور یہ سوچتا رہا کہ جس کو خطرات سے محفوظ منزل سمجھ کر اتر اتھاو ہیں متاعِ زندگی لٹ گئی۔ آخر وہ کب تک وہاں بیٹھا رہتا۔ اس نے آنسو پونچھے اور آسمان کی طرف حسرت سے دیکھا اور اٹھ کر چل دیا ،لیکن وہ اپنے گھر نہ پہنچ سکا کیوں کہ وہ اپنی منزل بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔

اس کے نکلتے ہی پیر صاحب کو خیال آیا کہ ان کا روحانی منصب اس طرز عمل کے شایان نہیں کہ کوئی بے نکاحی عورت ان کے حرم میں رہے۔ بہت غور و فکر کے بعد انھوں نے دو آدمی فضلو کے پیچھے دوڑائے جنھوں نے اسے راستہ میں جالیا اور مطالبہ کیا کہ وہ خیراں کو طلاق لکھ دے۔ فضلو کے انکار اور مزاحمت پر ان لوگوں نے اسے قتل کر کے چونے کی بھٹی میں جھونک کر بھسم کر ڈالا ۔ کیمیا سازی کے ماہر بزرگ اجسام کی صورت نوعیہ ایک ہی آنچ میں بدل کر رکھ دیتے ہیں ۔

گاؤں گاؤں یہ مشہور کرا دیا گیا کہ فضلولا پتہ ہو گیا۔ سمندر پار چلا گیا یا اس نے کنوئیں میں چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی۔

عدت کا شرعی وقفہ گزرنے پر پیر صاحب نے خیراں سے عقد فرمالیا مگر حقیقت سو پردوں میں بھی ہو تو چھپائے چھپ نہیں سکتی۔ بہت سے لوگوں کو جن میں مرید اور غیر مرید سبھی شامل تھے حضرت کے کرتوت کا علم ہو گیا تھا لیکن وہ مصلحتاً شور نہیں مچاتے تھے۔ ہر کسی کو اپنے انجام کا بھی دھڑ کا لگا ہوا تھا۔ پہاڑ سے ٹکرا کر کون اپنا سر پھوڑے۔ پھر بھی لوگوں کی سرگوشیوں کو کون روک سکتا ہے۔ خبر پر تنقید بھینس کی جگالی کے مانند ہوتی ہے جو چارا کھانے کے بعد دیر تک جاری رہتی ہے ایک یہ کہتا کہ یہ کام اچھا نہیں ہوا بہت بری بات ہوگئی ۔ دوسرا بولا ۔ چپ رہو یار ۔ اللہ والوں کی کوئی بات مصلحت سے خالی نہیں ہوا کرتی ۔ تیسرے نے کہا۔ ہاں بھئی ٹھیک ہی تو ہے۔ جیہڑا پیر دیاں کچھاں پھر ولے اوہ اوڑک دوزخ ویسی۔ چوتھے نے کہا بھائی صاحب ! مرغن غذا ئیں اور مقوی دوائیں جو نوش فرماتے ہیں اور اوپر سے مرغ کی یخنیاں چڑھاتے ہیں اور اپنی ہڈیوں کو گرماتے ہیں پھر خلوت میں خرمستیاں کرتے ہیں۔ پانچواں بولا ! دوستو بدگمانی کا علاج تو لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا۔ کسی کو کیا معلوم کہ مرغ کی یخنی اور مرغن پلاؤ عبادت پر قوت حاصل کرنے اور شب بیداری کی خاطر استعمال کرتے ہوں۔ لوگوں کو ذرا زبان سنبھال کر بات کرنی چاہیے۔ چھٹے نے کہا ہاں جی ہم کو عبادت گزاری اور شب بیداری کا سب حال معلوم ہے۔ اسپغول تے کچھ نہ پھرول ۔

بہ ہر کیف جو ہونا تھا ہو چکا۔ اگلے برس خیراں کے لڑکا پیدا ہوا۔ چندے آفتاب و خندے ماہتاب ۔ جب حُسنِ مستور کا جلوہ نقاب کی اوٹ سے جھلکنے سے نہیں رہتا تو ماں کا نقشہ بچے کے چہرے پر کیوں نہ اتر تا۔

اب خیراں کے ساتھ ساتھ یہ بچہ بھی پیر صاحب کی خصوصی توجہ اور امنگوں کا مرکز بن گیا۔ وقت تیزی کے ساتھ گزرتا گیا اور لڑ کا بارہ برس کا ہو گیا۔ لڑکے کو شروع ہی سے نیزہ بازی اور گھڑ سواری کی مشق کرائی گئی۔



ایک روز یہی برکھارت تھی۔۔۔ عصر کے وقت ابر جھکا ہوا تھا کہ لڑکے نے اصطبل سے منع کرنے کے باوجود ایک منہ زور گھوڑے کو کھول لیا جو کسی مرید نے اسی سال نذر کیا تھا۔ لڑکا اس پر سوار ہوا اور لگام کو اپنے دائیں ہاتھ کی کلائی پر کس کر باندھ لیا۔ ایڑی لگائی اور گھوڑا سرپٹ دوڑا۔ لڑکا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا۔ ایک جھٹکے کے ساتھ دائیں جانب لٹک گیا ۔ کلائی تو لگام میں کس کر بندھی تھی بھاگتے گھوڑے کے ساتھ ساتھ اس کا سر درختوں اور پتھروں سے ٹکرا تا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے جسم کی کھال ادھڑ گئی اور ہڈیاں چُور چور ہو گئیں۔

پورے گاؤں میں لینا، پکڑنا ، دوڑنا کا شور مچ گیا۔ پیر صاحب کو اطلاع ہوئی اور وہ ننگے پاؤں باہر کی جانب بھاگے ۔ آنکھوں میں تاریکی چھا گئی ۔ گھوڑا برساتی نالے کے جانب جا کر پھر گاؤں کی سمت آرہا تھا کہ بارش ہونے لگی۔

اتفاق کی بات ہے کہ کھلے کھیتوں میں جہاں اس وقت پیر صاحب کھڑے تھے ٹھیک اسی مقام پر آج ۔ آج سے چودہ برس پہلے فضلو اسی ساون رت میں برستے ابر میں سر پکڑے بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔ پیر صاحب کی آنکھوں سے بھی جھڑی لگی تھی۔ دل کی پتھریلی چٹانوں سے آنسوؤں کے چشمے اہل رہے تھے۔ جسم میں سکت باقی نہ رہی تھی ۔ بارش کے قطرے سر سے بہہ کر آنسوؤں میں ملتے اور دامن میں جذب ہوئے جاتے۔کچھ دیر بعد انھوں نے اشک بار آنکھوں کے ساتھ آسمان کی سمت دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں،  " وائے حسر تا متاعِ زندگی عمر کی کس منزل میں آکر کھو گئی۔"


نوٹ:

یہ افسانہ کتاب "عزیز ملک کے افسانے"، ترتیب و تحقیق : پروفیسرامجد اقبال (رابطہ نمبر 03005137808)، سے لیا گیا ہے۔




 

Comments

Popular posts from this blog

وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش || روف نظامانی