Posts

وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش || روف نظامانی

Image
  وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش      روف نظامانی   یہ بات درست ہے کہ تقسیم کے وقت سندھی مسلمانوں اور سندھی ہندوؤں کے درمیان مذہبی فساد نہیں ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ہنگاموں کی وجہ سے ہی ہندوؤں میں عدم تحفظ کی صورت حال پیدا ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہاں سے ہجرت کی تھی۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ سندھ میں ہندو اور مسلمان ہمیشہ امن اور پیار محبت سے رہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ کچھ تاریخ نویس اس خیال کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سندھ میں ہندو اور مسلمانوں کے در میان کشمکش ہمیشہ سے رہی ہے۔ تالپوروں کے دور میں سیٹھ تاؤں مل کے والد کے ساتھ کیا گیا سلوک تو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ کی آر ملکانی اپنی کتاب ”سندھ اسٹوری“ میں لکھتے ہیں کہ سندھ کے ہندو مسلمانوں کے مقدس دن جمعہ کے پیش نظر جمعرات کی شام سے ہفتہ کی صبح تک اس خوف سے اپنے گھروں میں محصور رہتے تھے کہ کہیں ان کی زبان سے لفظ ”رسو " نہ نکل جائے جسے رسول سمجھ کر انہیں زبردستی مسلمان نہ کیا جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے لفظ رسوہی ترک کر دیا تھا ا...

افسانہ : برکھا رُت || افسانہ نگار : عزیز ملک (راولپنڈی)

Image
  افسانہ : برکھا رُ ت افسانہ نگار : عزیز ملک   ( پیداش: 06 ستمبر 1916ء راولپنڈی- وفات: 04 جون 1999ء راولپنڈی ) صاحبزادہ صاحب اکیس بائیس برس کے ہو گئے تو بڑے حضرت کو خیال آیا کہ اب ان کی شادی ہو جائے تو اچھا ہے۔ رشتہ ابھی کہیں طے نہ کر پائے تھے کہ عرس کے ایام آگئے اور مریدوں کے قافلے آنا شروع ہوئے ۔ ماسٹر بہرام خان بھی اپنے اہل و عیال سمیت برکات سمیٹنے آیا تھا کہ اس کی جھولی مراد کے پھولوں سے بھر گئی۔ اس کی بڑی بیٹی جمیلہ پندرہ سولہ برس کی رہی ہوگی مگر اونچی لمبی گوری موٹی بھاری نکل آئی تھی ۔ ایسی لٹک مٹک کرتی ہوئی چال کہ خیال آپ سے آپ اٹک کر اور کلی دل کی چٹک کر رہ جائے ۔ امیدیں چٹکی لیں اور خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ ادھر بڑے حضرت نے اشارہ کیا ادھر بات پکی ہوگئی۔ شب برأت سے دو دن پہلے بارات گئی اور ولیمہ پرہفت روزہ جشن بپا ہوا۔ ڈھولک ، گیت سنگیت، سمی،لڈی، کبڈی ، قوالی اور نعت خوانی ہوئی ۔ آس پاس کے دیہات سے مخلوقِ خدا اُمڈ آئی اور عام لنگر کھل گیا۔ فضا میں خوشیاں بکھر گئیں۔ جشن کی تقریبات بھی جاری رہیں اور چپکے چپکے باتیں بھی ہوتی رہیں ۔ ایک نے کہا۔ اپن...