وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش || روف نظامانی
وطن گم گشتہ اور شناخت کی تلاش روف نظامانی یہ بات درست ہے کہ تقسیم کے وقت سندھی مسلمانوں اور سندھی ہندوؤں کے درمیان مذہبی فساد نہیں ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ہنگاموں کی وجہ سے ہی ہندوؤں میں عدم تحفظ کی صورت حال پیدا ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے یہاں سے ہجرت کی تھی۔ لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ سندھ میں ہندو اور مسلمان ہمیشہ امن اور پیار محبت سے رہے ہیں اور ان کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ کچھ تاریخ نویس اس خیال کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ سندھ میں ہندو اور مسلمانوں کے در میان کشمکش ہمیشہ سے رہی ہے۔ تالپوروں کے دور میں سیٹھ تاؤں مل کے والد کے ساتھ کیا گیا سلوک تو تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ کی آر ملکانی اپنی کتاب ”سندھ اسٹوری“ میں لکھتے ہیں کہ سندھ کے ہندو مسلمانوں کے مقدس دن جمعہ کے پیش نظر جمعرات کی شام سے ہفتہ کی صبح تک اس خوف سے اپنے گھروں میں محصور رہتے تھے کہ کہیں ان کی زبان سے لفظ ”رسو " نہ نکل جائے جسے رسول سمجھ کر انہیں زبردستی مسلمان نہ کیا جائے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے لفظ رسوہی ترک کر دیا تھا ا...