Posts

Showing posts from March, 2025

افسانہ : برکھا رُت || افسانہ نگار : عزیز ملک (راولپنڈی)

Image
  افسانہ : برکھا رُ ت افسانہ نگار : عزیز ملک   ( پیداش: 06 ستمبر 1916ء راولپنڈی- وفات: 04 جون 1999ء راولپنڈی ) صاحبزادہ صاحب اکیس بائیس برس کے ہو گئے تو بڑے حضرت کو خیال آیا کہ اب ان کی شادی ہو جائے تو اچھا ہے۔ رشتہ ابھی کہیں طے نہ کر پائے تھے کہ عرس کے ایام آگئے اور مریدوں کے قافلے آنا شروع ہوئے ۔ ماسٹر بہرام خان بھی اپنے اہل و عیال سمیت برکات سمیٹنے آیا تھا کہ اس کی جھولی مراد کے پھولوں سے بھر گئی۔ اس کی بڑی بیٹی جمیلہ پندرہ سولہ برس کی رہی ہوگی مگر اونچی لمبی گوری موٹی بھاری نکل آئی تھی ۔ ایسی لٹک مٹک کرتی ہوئی چال کہ خیال آپ سے آپ اٹک کر اور کلی دل کی چٹک کر رہ جائے ۔ امیدیں چٹکی لیں اور خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔ ادھر بڑے حضرت نے اشارہ کیا ادھر بات پکی ہوگئی۔ شب برأت سے دو دن پہلے بارات گئی اور ولیمہ پرہفت روزہ جشن بپا ہوا۔ ڈھولک ، گیت سنگیت، سمی،لڈی، کبڈی ، قوالی اور نعت خوانی ہوئی ۔ آس پاس کے دیہات سے مخلوقِ خدا اُمڈ آئی اور عام لنگر کھل گیا۔ فضا میں خوشیاں بکھر گئیں۔ جشن کی تقریبات بھی جاری رہیں اور چپکے چپکے باتیں بھی ہوتی رہیں ۔ ایک نے کہا۔ اپن...